Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
منحہ نام کا مطلب اور منحہ نام رکھنے کا حکم
- Fatwa no.
- 1961-WAT
Question
منحہ، بچی کا نام رکھنا کیسا ہے ؟
Answer (beginning)
یہ نام رکھنے میں حرج نہیں۔ منحہ کا لغوی معنی ہے: ”عطیہ “(المنجد، ص861، خزینہ علم وادب) البتہ ! بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ، بیٹیوں، نانیوں، دادیوں، صحابیات رضی اللہ عنہن اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائے کہ اس کی وجہ سے نام کی برکت اور ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی شامل حال ہو گی۔ اور ناموں کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ” نام رکھنے کے احکام کا مطالعہ کیجئے اور درج ذیل لنک سے یہ کتاب ڈاؤن لوڈ بھی کی جاسکتی ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.