Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

پرانے ریٹ کی رکھی چیز کو نئے ریٹ پربیچنا

Fatwa no.
1955-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی دکاندار کے پاس پرانے ریٹ کی چیز رکھی ہوئی ہو اور اس چیز کا ریٹ بڑھ جائے تو کیا نئے ریٹ پر وہ چیز بیچ سکتا ہے؟

Answer (beginning)

جی ہاں اس صورت میں وہ دکاندار نئے ریٹ پر چیز بیچ سکتا ہے، کیونکہ اس کی اپنی چیز ہے جتنے میں بیچنا چاہے بیچ سکتا ہے۔ لیکن خیر خواہی کی نیت سے اسی ریٹ پر دینا بہتر ہے، جس طرح آج کل مہنگائی کا بھی دور چل رہا ہے، مسلمانوں کی خیر خواہی کی نیت سے چیز سستی دے گا تو نفع کیسا تھ ثواب کا بھی حقدار ہو گا۔ چنانچہ فتاوی رضویہ میں سیدی اعلیٰ حضرت نام اہل سنت رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں : ” اپنے مال کا ہر شخص کو اختیار ہے چاہے کوڑی کی چیز ہزار روپیہ کو دے ، مشتری کو غرض ہولے، نہ ہو نہ لے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.