Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

فرض غسل میں کلی اور ناک میں پانی چڑھانے کے بعد وضو ٹوٹ جائے تو

Fatwa no.
1954-WAT

Question

(دعوت اسلامی) فرض غسل کے دوران کلی اور غرارے اور ناک میں نرم ہڈی پر پانی چڑھانے کے بعد جبکہ سارے جسم پر پانی بہانے سے پہلے اگر ریح خارج ہو جائے یا پھر پیشاب کر لیا جائے، تو کیا کلی غرارے اور ناک میں دوبارہ پانی چڑھایا جائے گا؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں دوبارہ سے کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا فرض نہیں ہو گا، کیونکہ کھلی اور ناک میں پانی چڑھانے کا فرض پہلے ادا ہو چکا اور اس کے بعد حدث اکبر لاحق نہیں ہوا یعنی غسل فرض ہونے کا کوئی سبب نہیں پایا گیا، لہذا دوبارہ سے کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا لازم نہیں ہو گا ، البتہ ریح خارج ہو جانے سے حدث اصغر لاحق ہو گیا، لہذا جب وضو یا غسل کیا جائے، تو کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا سنت ہو گا، لیکن اگر کسی نے دوبارہ کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے سے پہلے ہی غسل کا تیر افرض پورا کر لیا یعنی تمام ظاہر بدن پر پانی بالیا اور اسی حالت میں نماز پڑھ لی، تو اس کی نماز ہو جائے گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.