Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عشال نام کا مطلب اور عشال نام رکھنا کیسا ہے؟

Fatwa no.
1947-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اپنی بیٹی کا نام میں نے عشال رکھا ہے ابھی ڈاکومینٹ وغیرہ بھی اس نام سے بنالئے اب کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ نام ٹھیک نہیں تو آپ بتادیں کہ یہ نام رکھنا کیسا؟

Answer (beginning)

عامل کا معنی ہے " اندازہ لگا کر درستگی کو پانے والا " ۔ عشال (عین کے زبر اور عین کے زیر ، دونوں صورتوں میں ) اسی سے مبالغہ کا صیغہ ہے، ترجمہ بنے گا " اندازہ لگا کر بہت زیادہ درستگی کو پانے والا مر دیا عورت۔ " اس لحاظ سے نام رکھا جا سکتا ہے۔ تاج العروس میں ہے: ”العاشل: المخمن الذي يظن فيصيب“ ترجمہ : عاشل: اپنے گمان پر اندازہ لگا کر درستگی کو پانے والا۔ (تاج العروس، جلد 29، صفحہ 486، دار الهداية) شرح شافیہ ابن حاجب میں ہے "وأما بناء المبالغة الذي على مِفْعَال كمِهْدَاء ومهذار، أو على سِفْعِيل كمخضير ومغطير، أو على مِفْعَل كَمِدْعَس ومِطْعَن، أو على فَعَال كصناع وحَصَان ، أو على فِعَال کهجان، أو…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.