Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سابقہ نام کا مطلب اور سابقہ نام رکھنا کیسا ہے؟
- Fatwa no.
- 1920-WAT
Question
سابقہ نام رکھنا کیسا ہے؟
Answer (beginning)
سابقہ نام رکھنا درست ہے۔ لغات میں سابقہ کے درج ذیل معانی بیان ہوئے ہیں: فیروز اللغات میں ہے ”سابقہ : (1) اگلا، اگلے زمانے کا (2) قدیم جان پہچان، دوستانہ (3) واسطہ ، معاملہ۔(فیروز اللغات، ص 760 ، فیروز سنز، لاہور) المنجد میں ہے ”السابقة : السابق کا مؤنث۔۔۔ سبقه سبقا، الى كذا : آگے بڑھ جانا، علی کذا: غالب ہونا۔ صفت سابق۔(المنجد، ص 357، خزینہ علم و ادب، لاہور) البتہ بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام ازوج مطہرات و صحابیات یا تابعیات و صالحات رضی اللہ تعالی عنہن کے نام پر رکھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” تسموا بخیار کم “ یعنی اپنوں میں سے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.