Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نمازمیں مرد کا ستر کھل جائے تو کیا حکم ہے ؟
- Fatwa no.
- 1913-WAT
Question
دارالافتاءاہلسنت (دعوت اسلامی) نماز میں کسی مرد کا ستر کھل جائے تو کیا نماز ہو جائے گی ؟
Answer (beginning)
مکمل شرعی مسئلہ یہ ہے کہ مرد کا ستر ناف سے گھٹنوں تک ہے ، ناف اس میں شامل نہیں، گھٹنے شامل ہیں اور نماز میں ستر کھلنے کی صورت میں اعضاء ستر میں سے ہر عضو کی چوتھائی کھلنے پر فساد نماز کا دارو مدار ہے، چنانچہ اگر ایک عضو مثلا سرین کا چوتھائی حصہ یعنی 4/1 کھل گیا، اگر چہ اس کے بلا قصد ہی کھلا ہو اور اس نے ایسی حالت میں رکوع یا سجود یا کوئی رکن کامل ادا کیا تو نماز بالاتفاق ٹوٹ جائے گی اور اگر صورت مذکورہ میں پورار کن تو ادا نہ کیا، مگر اتنی دیر گزر گئی جس میں تین بار شبخن اللہ کہہ لیتا، تو بھی مذہب مختار پر ٹوٹ جائے گی اور اگر نمازی نے بالقصد ایک عضو کا چوتھائی حصہ بلا ضرورت کھولا، تو فور آنماز…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.