Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
امام کے بیہوش ہونے کی صورت میں مقتدی کا نماز پڑھانا
- Answered by
- ابوحفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 1912-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر امام کی طبیعت خراب ہو جائے اور وہ بیہوش ہو جائے، تو پیچھے سے کوئی خود بخود اس کی جگہ کھڑا ہو کر جماعت کروا سکتا ہے یعنی اب کوئی خود بخود اس کا خلیفہ بن سکتا ہے؟
Answer (beginning)
امام پر بے ہوشی طاری ہو جائے تو نماز فاسد ہو جاتی ہے لہذا ایسی صورت میں کسی مقتدی کے امام کی جگہ آکر نماز مکمل کرا دینے سے نماز نہیں ہو گی بلکہ اس نماز کو نئے سرے سے پڑھنا ضروری ہو گا۔ چنانچہ بہار شریعت میں ہے : " امام کو جنون ہو گیا یا بے ہوشی طاری ہوئی یا قبقہ لگایا یا کوئی موجب غسل پایا گیا، تو ان سب صورتوں میں نماز فاسد ہو گئی، سرے سے پڑھے۔ (بہار شریعت ، ج 01، حصہ 3،صفحہ602،مکتبۃ المدینه، کراچی) " وَ اللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَل وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم دام الام اهلسنت Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net f…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.