Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

چوری کے اندیشے سے گھرمیں نمازپڑھنا

Fatwa no.
1907-WAT

Question

اگر نماز پڑھنے جانا ہو اور راستے میں چور کا خطرہ ہو تو کیا گھر میں پڑھ سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

اگر واقعی راستے میں چور پڑنے کا صحیح اندیشہ ہو، جس سے اپنی جان یا مال پر خوف ہو تو گھر پر نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ علامہ علاوالدین محمد بن علی حصکفی علیہ الرحمہ نے جن صورتوں میں جماعت واجب نہیں، ان کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھا: " و خوف علی مالہ۔۔۔ او ظالم " ترجمہ: اور اپنے مال پر خوف ہو یا کسی ظالم سے خوف ہو ( تو ترک جماعت کی اجازت ہے۔) اس کے تحت رد المحتار میں ہے " قوله : ( وخوف على ماله) اى من لص ونحوہ۔۔قولہ:(اوظالم) يخافه على نفسه او ماله "ترجمہ : یعنی چور وغیرہ سے مال پر خوف ہو۔ یا کسی ظالم سے اپنی جان یامال پر خوف ہو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.