Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جس کپڑے کو بلی چاٹ لے، اس میں نماز ہوگی یا نہیں؟

Fatwa no.
1899-WAT

Question

بلی کپڑے کو چاٹ لے تو نماز ہو جائے گی ؟

Answer (beginning)

اگر بلی کپڑے کو چاٹ لے ، تو چاہئے کہ اتنے حصے کو دھو کر نماز پڑھے، بغیر دھوئے نماز پڑھنا مکروہ ہے ، اگر اسی طرح پڑھی لی تو نماز ہو جائے گی، البتہ خلاف اولی ہو گی۔ فتاوی ہندیہ میں ہے: " ويكره أن تلحس الهرة في كف إنسان ثم يصلي قبل غسلها ترجمہ: یہ مکروہ ہے کہ بلی کسی انسان کی ہتھیلی کو چائے اور پھر وہ اسے دھوئے بغیر نماز پڑھ لے۔ (الفتاوى الهندية، ج 01 ص 24, دار الفكر) بہار شریعت میں ہے : " اگر کسی کا ہاتھ بلی نے چاٹنا شروع کیا تو چاہیے کہ فوراً کھینچ لے یو ہیں چھوڑ دینا کہ چاٹتی رہے مگر وہ ہے اور چاہیے کہ ہاتھ دھو ڈالے بے دھوئے اگر نماز پڑھ لی تو ہو گئی مگر خلاف اولی ہوئی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.