Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

وفات کے بعد والدین پر اولاد کے اعمال کا پیش ہونا

Fatwa no.
1860-WAT

Question

دارالافتاءاہلسنت (دعوت اسلامی) اگر والدین فوت ہو جاتے ہیں، تو کیا ان کی اولاد کے اعمال ان پر پیش کئے جاتے ہیں؟

Answer (beginning)

حدیث مبارک میں ہے کہ آدمی کے اعمال اس کے ماں باپ پر بھی پیش کئے جاتے ہیں۔ چنانچہ الجامع الصغیر میں ہے: " تعرض الأعمال يوم الأثنين والخميس على الله وتعرض على الأنبياء وعلى الآباء والأمهات يوم الجمعة فيفرحون بحسناتهم وتزداد وجوههم بياضاً و إشراقاً فاتقوا الله ولا تؤذواموتاکم“ترجمہ:ہر پیر اور جمعرات کو اللہ تعالی کی بارگاہ میں اعمال پیش کیے جاتے ہیں اور انبیاء کرام علیہم السلام اور آباء و امہات پر جمعہ کے دن اعمال پیش کیے جاتے ہیں، چنانچہ انبیائے کرام امت کے نیک اعمال اور والدین اپنی اولاد کے نیک اعمال سے خوش ہوتے ہیں اور ان کے چہرے مزید روشن اور سفید ہو جاتے ہیں، لہذا اللہ عزوجل سے ڈرو اور اپنے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.