Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کافر بینک سے قرض لینا کیسا ؟
- Fatwa no.
- 1857-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا کافروں کے کسی بینک سے (جس میں کسی مسلمان کا شئیر نہ ہو ) لون یعنی قرض لیا جا سکتا ہے؟
Answer (beginning)
بینکوں سے ملنے والا قرض، چونکہ سودی قرض ہوتا ہے اور سودی قرض لینا، ناجائز و حرام ہے ، چاہے وہ مسلم بینکوں سے ہو یا خالص کفار کی بینکوں سے۔ احادیث مبارکہ میں سود دینے اور لینے والے دونوں پر لعنت فرمائی گئی ہے۔ لہذا خالص کفار کے بینکوں سے بھی سودی قرض لینا جائز نہیں۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث مبارکہ ہے: "عن جابر رضی اللہ عنہ قال : لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال هم سواء ترجمہ : حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، سود کھلانے والے ، سود لکھنے والے اور سود کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا کہ وہ سب (گناہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.