Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حضرت علی کو مولی علی کیوں کہا جاتا ہے؟
- Fatwa no.
- 1849-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا : جس کا میں مولی ہوں، علی بھی اس کے مولی ہیں۔ اور مولی کا معنی ہوتا ہے "آقا " سر دار وغیرہ تو اب سوال یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو حضرت ابو بکر وعمر رضی اللہ عنھما کے بھی مولی ہیں تو کیا حضرت علی ان حضرات کے بھی سردار اور آقا ہیں ؟
Answer (beginning)
لفظ " مولی" کے معانی کو بیان کرتے ہوئے حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمہ اللہ مرآۃ شرح مشکوۃ میں تحریر فرماتے ہیں: مولی کے بہت (سے) معنی ہیں: دوست ، مددگار، آزاد شدہ غلام ، ( غلام کو ) آزاد کرنے والا مولی۔ اس (حدیث پاک میں مولی) کے معنی خلیفہ یا بادشاہ نہیں یہاں (مولی ) بمعنی دوست (اور) محبوب ہے یا بمعنی مددگار اور واقعی حضرت علی رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے دوست بھی ہیں، مددگار بھی، اس لئے آپ کرم اللہ وجہہ الکریم کو " مولی علی“ کہتے ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.