Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کام کی ٹریننگ دینے پر کمائی کا کمیشن لینا کیسا؟

Fatwa no.
1845-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) زید نے بکر کو کہا کہ فلاں کام کیسے کرنا ہے، میں تمہیں اس کی ٹریننگ دوں گا، اس کے بدلے تم مجھے بطور اجرت اتنے سال تک اپنی کمائی کا 10 فیصد یا 5 فیصد دینا، یہ جائز ہے یا نہیں ، اور اگر نہیں تو کس سبب سے ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اس طرح معاہدہ کر ناشر عا درست نہیں ہے، کیونکہ اجرت کے بدلے ٹریننگ دینا، عقد اجارہ ہے اور اجارہ میں اجرت کا معلوم ہونا ضروری ہے، جبکہ اس صورت میں اجرت مجہول ہے کیونکہ اجرت میں کمائی کا فیصد مقرر کیا گیا ہے مگر معلوم نہیں کہ کمائی ہوگی بھی یا نہیں ؟ اور ہوگی تو کتنی ہوگی ؟ جبکہ وقت عقد اجرت کا معلوم ہونا صحت اجارہ کی شرط ہے، اجرت مجہول ہو تو اجارہ فاسد ہو جاتا ہے اور عاقدین گناہ گار ہوتے ہیں، ان پر لازم ہو تا ہے کہ اس عقد کو ختم کر دیں اور کچی تو بہ بھی کریں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.