Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عائرہ یا علینہ نام رکھنا کیسا ہے؟ عائرہ اور علینا کا معنی
- Fatwa no.
- 1841-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) یہ معلوم کرنا تھا کہ بیٹی کا یہ نام رکھ سکتے ہیں : (1) علینہ ۔ (2) عائرہ۔ ان دونوں ناموں پر رہنمائی کر دیں کہ کون سا نام رکھ سکتے ہیں اور کونسا نہیں؟
Answer (beginning)
(1) "علینہ " دراصل "اعلن " سے صفت مشبہ مؤنث کا صیغہ ہے، جس کا معنی ہے ظاہر ہونا، اور "علینہ " کا معنی ہوگا ظاہر ہونے والی۔اس لحاظ سے یہ نام رکھ سکتے ہیں۔ المنجد میں ہے ”علن : ظاہر ہونا۔ صفت : عالن وعلین و علین۔ (المنجد، ص ص 582، خزینہ علم و ادب، لاہور) (2) اور عائزہ "، "عار " سے اسم فاعل کا صیغہ ہے اور "عار " کا معنی ہے : شش و پنچ کے ساتھ آنا جانا اور زمین پر حیران و سر گرداں پھر نا، کانا ہو جانا، ضائع کر دینا وغیرہ۔ ان کے علاوہ بھی کچھ نامناسب معانی ہیں، اس لیے یہ نام نہ رکھا جائے۔ القاموس الوحید میں ہے ”عار ، عیر او عیر انا: شش و پنچ کے ساتھ آنا جانا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.