Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حجر اسود کے استلام کا طریقہ اور اس کے مسنون آداب

Fatwa no.
1840-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہم جب طواف کرتے ہیں، تو کیا ہر چکر میں استلام کے لئے کعبہ شریف کی طرف منہ کرنا ہو گا یا رخ کیے بغیر بھی صرف ہاتھوں کے اشارے سے استلام کر دیں ؟ ر ہنمائی فرمائیں۔

Answer (beginning)

طواف کرنے والے کے لیے حجر اسود کا استلام سنت ہے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ طواف کے شروع میں اور پھر ہر چکر کے آخر میں بھی حجر اسود کا استلام اُس وقت کیا جاتا ہے ، جب حجر اسود آپ کی سیدھ میں ہو۔ استلام ہر چکر میں سنت ہے اور اس کے لیے طواف کے شروع میں حجر اسود کی طرف منہ (یعنی سینہ ) کرنا بھی سنت ہے جبکہ طواف کے دوران ہر چکر کے آخر میں استلام کے لیے حجر اسود کی طرف منہ کرنا مستحب ہے۔ لباب المناسک اور اس کی شرح مسلک المتقسط میں ہے: ” ( یحاذی الحجر فيقف بحياله) ای بمقابلته (ويستقبله) ای بوجهه (و۔۔۔ يستلم الحجر ۔۔۔ وسن الاستلام فی کل شوط وان استلمه في اوله و آخره أجزأه )۔۔۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.