Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
التحیات کے بعد سجدہ سہو بھول جانے کے بعد سلام سے پہلے سجدہ سہو کرنا
- Fatwa no.
- 1839-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص التحیات کے بعد سجدہ سہو کرنا بھول گیا، لیکن سلام سے پہلے اسے یادا گیا تو کیا اب سجدہ سہو کرنے سے سجدہ سہو ادا ہو جائے گا ؟
Answer (beginning)
التحیات پڑھنے کے بعد اگر کوئی سجدہ سہو کرنا بھول جائے اور سلام سے پہلے اُسے سجدہ سہو کر نا یاد آجائے تو اس صورت میں بھی وہ سجدہ سہو کر سکتا ہے بلکہ فقہائے کرام نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ اگر کسی شخص پر سجدہ سہولازم تھا اور وہ سجدہ سہو کرنا بھول گیا اور اس نے نماز ختم کرنے کیلئے سلام بھی پھیر دیا تو اس صورت میں بھی وہ شخص نماز سے باہر نہیں ہو گا اور اس پر لازم ہو گا کہ سلام پھیرنے کے بعد اگر نماز کے خلاف کوئی عمل نہیں کیا ہو تو سجدہ سہو کرے ، اُس کا سجدہ سہو ادا ہو جائے گا۔ ہاں اگر سلام پھیرنے کے بعد نماز کے خلاف کوئی عمل کر لیا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.