Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بلند آوازسے تکبیر کہنے کے لیے لقمہ دینا

Fatwa no.
1836-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ظہر کی نماز میں امام صاحب نے تکبیر رکوع بلند آواز سے نہیں کہی اور امام صاحب رکوع میں چلے گئے اور مقتدی کھڑے رہے ، 3 بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار برابر وقت گزر جانے کے بعد لقمہ دیا گیا پھر امام صاحب نے لقمہ دینے کی وجہ سے رکوع ہی میں بلند آواز سے اللہ اکبر کہا، تب سب رکوع میں گئے اور آخر میں امام صاحب نے سجدہ سہو کیا تو کیا نماز ہوگی یا اعادہ کرے؟

Answer (beginning)

رکوع میں جاتے وقت امام کا بلند آواز سے تکبیر پڑھنا سنت ہے، واجب نہیں کہ اس کے ترک سے نماز میں ایسا خلل واقع ہو ، جس کی درستگی کے لیے لقمہ کی ضرورت ہو ، لہذا یہاں بے محل لقمہ دینے کی وجہ سے لقمہ دینے والے کی اور اس کا لقمہ لینے کی وجہ سے امام صاحب اور تمام مقتدیوں کی نماز فاسد ہو گئی، سجدہ سہو سے اس کا تدارک نہیں ہو سکتا لہذا اس نماز میں شامل تمام افراد امام و مقتدی، سبھی کو اس نماز کو از سرے نو پڑھنا فرض ہے۔ امام کے بلند آواز سے تکبیر کہنے کے متعلق مراقی الفلاح میں ہے: ”ویسن جهر الامام بالتکبیر “ ترجمہ : امام کا جہر سے تکبیر کہنا سنت ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.