Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بلی کی خرید و فروخت کرنا کیسا ہے؟
- Fatwa no.
- 1830-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میر اسوال یہ ہے کہ میں نے گھر میں بلیاں پالی ہوئی ہیں اور جب وہ بچے دیتی ہیں، تو ان کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے، ایسی صورت میں کیا میں انہیں بیچ بھی سکتا ہوں ؟ شریعت کا کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
بلی پالنا اور اس کی خرید و فروخت کرنا جائز ہے، البتہ اس کو کھانا کھلانے اور پانی پلانے میں لاپر واہی نہ برتی جائے کہ حدیث مبارک میں ہے کہ : '' ایک عورت فقط اس وجہ سے جہنم میں گئی کہ اس نے بلی کو باندھ رکھا تھا اور اس کی بھوک پیاس کا خیال نہ رکھا حتی کہ وہ مر گئی۔" صحیح بخاری میں ہے ” عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «عذبت امرأة في هرة سجنتها حتى ماتت، فدخلت فيها النار، لاهي أطعمتها ولاسقتها، إن حبستها، ولا هي تركتها تأكل من خشاش الأرض “ ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.