Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا عشر کی ادائیگی قرض نکالنے کے بعد ہوگی؟
- Fatwa no.
- 1829-WAT
- Issued
- 28 ذو الحجب الحرام 1444ھ / 17 جولائی 2023ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک شخص ہے جس کی فصل کی آمدنی تقریبا چار لاکھ ہوئی ہے، لیکن اس پر کچھ قرض بھی ہے ، تو کیا قرض کی رقم نکال کر عشر ادا کرنا ہو گا، یا کل آمدن پر عشر واجب ہے؟
Answer (beginning)
قرض کی رقم نکالے بغیر کل آمدن پر عشر واجب ہو گا، ز کو ق اور عشر میں کچھ باتوں کے اعتبار سے فرق ہے، جیسے زکوۃ میں سال گزر ناشرط ہے، اور ادائیگی کے وقت قرض منھا کیا جاتا ہے، لیکن عشر میں ایسا نہیں، اس میں پیداوار کا حصول ہوتے ہی کل آمدن پر عشر واجب ہو جاتا ہے۔ چنانچہ در مختار میں ہے : " ويجب مع الدین ۔ “ یعنی : قرض کی رقم الگ 66 کئے بغیر (عشر ) ادا کرنا واجب ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.