Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قرآن پاک اٹھا کر کسی کام کا وعدہ کرنے سے قسم ہوگی یا نہیں ؟

Fatwa no.
1826-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میر اسوال یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو کوئی قرآن کی قسم کھانے کا بولے اور وہ شخص صرف سامنے والے کو دیکھانے کے لیے اپنے ہاتھ میں قرآن اٹھائے پھر یہ بولے کہ میں نہیں کروں گا یہ نہیں بولا کہ میں قرآن کی قسم کھاتا ہو کہ میں نہیں کرو گا تو کیا صرف ہاتھ میں قرآن اٹھانے سے قسم ہو جائے گی ؟ اور قرآن اٹھا کر یہ بولنے سے بھی قسم ہو جائے گی کہ میں نہیں کروں گا؟

Answer (beginning)

صرف ہاتھ میں قرآن اٹھانے یا قرآن اٹھا کر یہ کہنے سے کہ : " میں یہ کام نہیں کروں گا۔ شرعی قسم نہیں ہوتی، کیونکہ شرعی قسم کے لیے ضروری ہے ، کہ وہ الفاظ قسم کے ساتھ ہو، جیسے واللہ ، یا پھر رحمن کی قسم میں یہ کام نہیں کرونگا، ورنہ قسم نہیں ہو گی۔ البتہ اگر کوئی شخص قرآن اٹھا کر یہ کہہ لے کہ قرآن کی قسم یہ کام نہیں کروں گا تو شرعی قسم ہو جائے گی، بلکہ قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھانے سے قسم اور زیادہ مؤکد ہو جاتی ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.