Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بالوں میں گرہ لگی ہو تو وضو اور غسل کا حکم
- Fatwa no.
- 1823-WAT
Question
دارالافتاءاہلسنت (دعوت اسلامی) غسل کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ داڑھی کے ایک دو بالوں میں سیرہ تھی، تو غسل ہو گیا؟
Answer (beginning)
بالوں میں جو گیرہ پڑ جائے، وضو و غسل کے لیے ان کو کھول کر پانی بہانا ضروری نہیں، کھولے بغیر اس پر پانی بہانے سے بھی وضو و غسل ہو جاتا ہے ، لہذا یع چھی گئی صورت میں غسل ہو گیا۔ ردالمحتار میں ہے ” یؤخذ من مسألة الضفيرة أنه لا يجب غسل عقد الشعر المنعقد بنفسه؛ لأن الاحتراز عنه غير ممكن، ولو من شعر الرجل “ ترجمہ : عورت کے جوڑے کے مسئلے سے یہ اخذ ہوتا ہے کہ جس بال میں خود بخود گرہ لگ گئی ہو، اسے کھول کر دھونا واجب نہیں کیونکہ اس سے بچنا ممکن نہیں ہے، اگرچہ وہ مرد کا بال ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.