Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نکاح میں گواہ ضروری ہیں یا نہیں ؟

Fatwa no.
1821-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک مولوی صاحب کہتے ہیں کہ لڑکی اور لڑکے کو صرف کلمہ پڑھا کر قبول کروا لینے سے نکاح ہو جاتا ہے ، گواہ ہونا ضروری نہیں ہے، تو بتائیے کہ صرف لڑکی اور لڑکا ہو اور مولوی صاحب پانچ ہزار روپے لے کر ان کو قبول کروادیں اور گواہ کوئی نہ ہو ، تو کیا یہ نکاح جائز ہے ؟

Answer (beginning)

اگر مرد و عورت بغیر شرعی گواہوں کے تنہا خود ہی ایجاب و قبول کر کے نکاح کریں یا کوئی دوسرا شخص بغیر شرعی گواہوں کے صرف لڑکے اور لڑکی کی موجودگی میں ان کو ایجاب و قبول کروا کر نکاح کرادے، تو نکاح منعقد ہی نہیں ہو گا، اگرچہ نکاح نامہ پر دستخط بھی کر لیں، کیونکہ نکاح کے لیے گواہوں کا ہونا شرط ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : " بغیر گواہوں کے نکاح نہیں ہوتا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.