Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا تحفے میں ملے پلاٹ پر زکوۃ فرض ہوگی؟

Fatwa no.
1818-WAT
Issued
25 ذوالحجۃ الحرام 1444 ھ /14 جولائی 2023ء

Question

میں ایک گورنمنٹ آفیسر ہوں حکومت ہمیں ملازمت مکمل کرنے پر بطور انعام پلاٹ دیتی ہے ۔ میرا اس پلاٹ کے متعلق ارادہ یہ ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد خدا نخواستہ اگر کوئی مسئلہ در پیش آگیا تو وہ میرے کام آئے گا۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا مجھ پر اس پلاٹ کی زکوۃ ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

بطور انعام ملے ہوئے اس پلاٹ پر زکوۃ نہیں، اگر چہ اسے بیچنے کی نیت ہو، اس لیے کہ یہ اموال زکوۃ میں سے نہیں، کیونکہ کسی پلاٹ کے مال زکوۃ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ مال تجارت ہو اور اسے مال تجارت اس وقت قرار دیا جاتا ہے، جب عقد تجارت کے ذریعے یہ حاصل ہوا ہو اور عقد تجارت کرتے وقت اس کے بیچنے کی نیت کی جائے ، جبکہ مذکورہ پلاٹ عقد تجارت سے حاصل نہیں ہوا ، بلکہ ہبہ (gift) کے ذریعے حاصل ہوا ہے ۔ بدائع الصنائع میں ہے : وأما فيما سوى الأثمان من العروض فإنما يكون الإعداد فيها للتجارة بالنية۔۔۔ ثم نية التجارة۔۔۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.