Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قبر میں میت کے ساتھ تبرکات رکھنا کیسا ؟

Answered by
ابوعبدالله محمد سعید عطاری مدنی
Fatwa no.
1814-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) قبر میں میت کے پاس یا قبلے کی جانب تبرکات پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم یاد دیگر تبرکات بزرگان دین رکھنے کا حکم بتادیجئے ؟

Answer (beginning)

تبرکات حضور پر نور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، تبرکات بزرگان دین اور دیگر متبرک اشیاء کو برکت کی نیت سے قبر اور کفن میں رکھنا جائز بلکہ احادیث، صحابہ کرام علیہم الرضوان کے عمل اور اقوال بزرگان دین سے بھی ثابت ہے اور ان متبرک اشیاء کے قبر میں موجود ہونے کے سبب اللہ عَزَّوَجَلَّ سے امید ہے کہ میت کو نفع پہنچے گا اور قبر کی مشکلات حل ہو جائیں گی۔ تبرکات کے بارے میں بخاری شریف کی حدیث پاک میں ہے: ” عن ام عطية الانصارية رضي الله عنها قالت دخل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم حين توفيت ابنته فقال اغسلنها ثلاثا او خمسا او اكثر من ذلك ان رايتن ذلك بماء وسدر واجعلن في الآخرة كافورا او شيئا من کافور…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.