Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کرنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 1806-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا ایک قربانی نبی پاک علیہ الصلوۃ والسلام اور ساری امت کی طرف سے قربان کی جاسکتی ہے ، اسی طرح ایک عمرہ بھی نبی پاک علیہ الصلوۃ والسلام اور ساری امت کی طرف سے کر سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
جی ہاں ! ایک قربانی، یو نہی ایک عمرہ نبی پاک علیہ الصلوۃ والسلام اور ساری امت کی طرف سے کیا جا سکتا ہے کہ یہ ایصالِ ثواب ہے اور ایک عمل کے ایصالِ ثواب میں جس مسلمان کو چاہیں شریک کر سکتے ہیں۔ خود نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ایک قربانی پوری امت کی طرف سے کیا کرتے تھے ، وہ ایصال ثواب ہی تھا۔ اسی طرح یہ روایت بھی ہے کہ اپنی طرف سے ایک قربانی کر کے دعا کرتے : "اے اللہ ! اسے محمد علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے ، محمد علیہ الصلوۃ والسلام کی آل کی طرف سے اور محمد صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی امت کی طرف سے قبول فرما۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.