Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

12 ذوالحجہ كی رمی ظہر کا وقت شروع ہونے سے پہلے کرنا

Fatwa no.
1801-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی حاجی نے 12 کی رمی ظہر کا وقت شروع ہونے سے پہلے کر لی یعنی 11 بجے کر لی اور پھر واپس مکہ مکرمہ اپنے ہوٹل آ گیا تو اب اس کے لئے کیا حکم ہوگا؟

Answer (beginning)

گیارہ اور بارہ ذوالحجہ کی رمی کا وقت، ظہر کا وقت شروع ہونے سے لے کر اگلے دن کی فجر کا وقت شروع ہونے تک ہوتا ہے البتہ بلا عذر سورج غروب ہونے کے بعد رمی کرنا مکروہ ہے۔ لہذا اگر کسی حاجی نے 12 کی رمی، ظہر کاوقت شروع ہونے سے پہلے کر لی تو اس کی وہ رمی ادا ہی نہیں ہوئی، اس پر لازم ہے کہ اگلے دن یعنی 13 ذوالحجہ کی فجر کا وقت شروع ہونے سے پہلے پہلے رمی کر لے، اگر ایسا کر لیتا ہے تو اس پر دم لازم نہیں ہو گا اور اگر اس نے 12 کی رمی اپنے وقت میں نہیں کی اور وقت ختم ہو گیا تو اب اس شخص پر 12 کی رمی کی قضا اور دم ، دونوں لازم ہیں ، اور رمی کی قضا کا وقت 13 ذوالحجہ کے غروب آفتاب تک ہے، لہذا 13 کی غروب سے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.