Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کھارے پانی کا ذائقہ حلق میں گیا تو روزے کا حکم

Fatwa no.
1800-WAT

Question

دارالافتاءاہلسنت (دعوت اسلامی) روزہ کی حالت میں کھارا پانی منہ میں لیا، پھر کلی کرنے کے کچھ دیر بعد تھوک کے ساتھ کھارے پانی کا ذائقہ بھی اندر چلا گیا، تو کیا روزہ ٹوٹ جائے گا؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اگر کلی کی اور پانی بالکل پھینک دیا، صرف منہ میں کچھ تری رہ گئی، پھر تھوک کے ساتھ اسی کھارے پانی کا ذائقہ یاتری حلق میں محسوس ہوئی، توروزہ نہیں ٹوٹے گا۔ بہار شریعت میں ہے " کلی کی اور پانی بالکل چھینک دیا صرف کچھ تری مونھ میں باقی رہ گئی ، تھوک کے ساتھ اُسے نگل گیا یاد وا کوئی اور حلق میں اُس کا مزہ محسوس ہوا یا ہر چوسی اور تھوک نگل گیا، مگر تھوک کے ساتھ ہڑ کا کوئی بجز حلق میں نہ پہنچا۔۔۔ تو ان سب صورتوں میں روزہ نہ گیا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.