Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اگر حجام کی اجرت ادا کرنے سے رہ گئی تو کیا حکم ہے؟
- Fatwa no.
- 1795-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) دو شخص حج کیلئے گئے تھے اور وہاں انہوں نے حلق کروایا اور حجام کو پیسے دیئے لیکن چونکہ اس کے پاس گھلے نہیں تھے، لہذا اس نے ان لوگوں سے فی الحال حلق کی اجرت نہیں لی اور دونوں کے موبائل نمبر لے لئے مگر اپنا موبائل نمبر نہیں دیا کہ وہ لوگ اُس سے رابطہ کر کے اسے وہ رقم پہنچا دیتے ، اب ایسی صورت میں وہ لوگ اس رقم کا کیا کریں؟
Answer (beginning)
عام طور پر حجاج کرام کسی دکان پر جا کر حلق کرواتے ہیں اور جس دکان سے حلق کروایا ہوتا ہے، اس کا کچھ نا کچھ پتا بھی معلوم ہوتا ہے لہذا اگر معاملہ یہی ہو تو ایسی صورت میں اُس دکان دار تک پہنچنا اتنازیادہ مشکل نہیں، ہر ممکن کوشش کی جائے کہ اُس دکان دار تک پہنچا جا سکے اگر وہ مل جائے تو اسے اس کی اجرت ادا کر دی جائے ، اور اگر کسی طرح بھی اُس شخص کی دکان معلوم نہ ہو سکے یا کسی راہ چلتے حجام سے حلق کروایا ہو اور اب اس کے بارے میں کچھ پتا نہ ہو کہ وہ کہاں ہے ؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.