Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بغیر وضو اذان دینا کیسا ہے ؟

Fatwa no.
1794-WAT

Question

بغیر وضو اذان دینا کیسا ہے ؟

Answer (beginning)

بے وضو اذان دینے سے اذان ہو جاتی ہے، البتہ ! یوں اذان دینا مکروہ ہے ، اس سے بچنا چاہیے۔ مجمع الانہر شرح ملتقی الا بحر میں ہے " ( وجاز أذان المحدث) لحصول المقصود ترجمہ: بے وضو کی اذان درست ہے، مقصود کے حاصل ہو جانے کی وجہ سے۔ (مجمع الانہر شرح ملتقی الا بحر، کتاب الصلاۃ، باب الاذان، ج 1، ص77، دار إحياء التراث العربي) نور الایضاح میں ہے ”ویکرہ اقامة المحدث واذانه “ترجمہ : بے وضو کا اذان واقامت کہنا مکروہ ہے۔(نور الايضاح، باب الاذان، ص 120، مکتبۃ المدینه، کراچی) بہار شریعت میں ہے : " بے وضو کی آذان صحیح ہے۔ مگر بے وضو آذان کہنا مکروہ ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.