Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تایا کے بیٹے کی بیٹی سےشادی کرنا
- Fatwa no.
- 1793-WAT
Question
بڑے ابو کے بیٹے کی بیٹی سے شادی کر سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
جی ہاں ! بڑے ابو (تایا) کے بیٹے کی بیٹی سے شادی کرنا جائز ہے جبکہ حرمت کی کوئی اور وجہ مثلار ضاعت ( دودھ کا رشتہ ) وغیرہ نہ ہو۔ اس لیے کہ اجداد کی فروع اول حرام ہے، جبکہ اس کے بعد کی فروع سے نکاح جائز ہے۔ علامہ ابن ہمام رحمہ اللہ فرماتے ہیں " و فروع أجداده وجداته لبطن واحد، فلهذا تحرم العمات والخالات، وتحل بنات العمات والأعمام والخالات والأخوال " ترجمہ: دادا، دادیوں اور نانا، نانیوں کی ایک بطن کی فروع ( پہلی اولاد ) حرام ہے (بقیہ حلال ہیں)، لہذا پھوپھیاں، خالائیں حرام ہیں، اور پھوپھیوں، چچاؤں، خالاؤں اور مامووں کی بیٹیاں حلال ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.