Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دوسرے ملک میں قربانی کرنے پر بال اور ناخن کاٹنے کا حکم؟

Fatwa no.
1786-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں سعودیہ میں ہوں۔ میری قربانی پاکستان میں ہو گی۔ بال اور ناخن کٹوانے کی اجازت کب ہو گی، جب سعودیہ میں قربانی ہوگی یا جب پاکستان میں ہو گی ؟

Answer (beginning)

ناخن یا بال نہ کاٹنے کا حکم اپنے جانور کی قربانی ہو جانے تک ہوتا ہے، لہذا آپ کی قربانی جہاں ہے، وہیں کے حساب سے اس استبابی حکم پر عمل کریں، یعنی اگر آپ کے جانور کی قربانی پاکستان میں ہورہی ہے تو جب وہاں قربانی ہو جائے تب اپنے ناخن اور بال کاٹ لیں۔ صحیح مسلم میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”من كان له ذبح، يذبحه فاذا اهل هلال ذي الحجة، فلا يا خذن من شعره ولا من اظفاره شيئاً حتى یضحی“ ترجمہ : جس کا قربانی کا ارادہ ہو ، تو جب ذوالحجہ کا چاند طلوع ہو جائے، تو جب تک قربانی نہ کرلے وہ اپنے بالوں اور ناخنوں سے کچھ بھی نہ کاٹے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.