Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دوران دعا یا رسول اللہ انظر حالنا پڑھنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 1785-WAT
Question
جب کوئی شخص دعا میں ذات باری تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو تو کیا اس وقت " یار سول اللہ ا نظر حالنا " پڑھنا درست ہے ؟ میں بھی اس کا پڑھنا جائز سمجھتا ہوں لیکن میرا مقصد یہ ہے کہ جب بندہ ذات باری تعالی کی طرف متوجہ ہو کر دعا کر رہا ہے تو عین اسی وقت یہ کلمات پڑھنا اور جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف توجہ کرنا درست ہو گا؟
Answer (beginning)
جی ہاں ! بلاشبہ ٹھیک اس حالت میں بھی جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف متوجہ ہو کر کلمات مذکورہ پڑھنا بالکل درست ہے، بلکہ ٹھیک دعا کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنی ذات کی طرف توجہ کا حکم فرمانا ثابت ہے۔ چنانچہ حضرت سید نا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے که ایک نابینا صحابی رَضِيَ اللهُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کی: اللہ عزوجل سے دُعا کیجئے کہ مجھے عافیت دے۔ ارشاد فرمایا: اگر تو چاہے تو دعا کروں اور چاہے تو صبر کر اور یہ تیرے لیے بہتر ہے۔انہوں نے عرض کی : آقا !دعافرمادیجئے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.