Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دعا نام کا مطلب اور دعا نام رکھنا کیسا ہے؟
- Fatwa no.
- 1784-WAT
Question
دعا نام رکھ سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
د عامر بی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی " پکارنا ہے ، اور یہ ایک مذہبی نام ہے بہتر ہے کہ اسے نہ رکھیں کہ جو اس بچی کو بُرا کہے تو یوں کہنا عجیب سا لگے کہ دعا اچھی نہیں گندی ہے وغیرہ۔ بہتر ہے کہ بچیوں کے نام صحابیات، تابعیات اور نیک مسلمان خواتین کے ناموں میں سے کوئی نام منتخب کر کے رکھ لیا جائے۔ الفردوس بماثور الخطاب میں ہے : ”تسموا بخیارکم واطلبوا حوائجكم عند حسان الوجوہ ترجمہ : اچھوں کے نام پر نام رکھو اور اپنی حاجتیں اچھے چہرے والوں سے طلب کرو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد2، صفحہ58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت) بہار شریعت میں ہے : ”بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.