Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حج افراد میں طواف الزیارۃ کے بعد حج کی سعی کا حکم؟

Fatwa no.
1778-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں جدہ سے حج کیلئے جارہا ہوں ، میں حج افراد کروں گا، کیا میرے لئے طواف الزیارۃ کے بعد سعی کرناضروری ہے یا نہیں؟

Answer (beginning)

حج کی سعی کرنا، ہر قسم کے حاجی پر لازم وضروری ہے کیونکہ یہ حج کے واجبات میں سے ہے، البتہ حج کی سعی، طواف الزیارہ کے بعد ہی کرناضروری نہیں، بلکہ اگر کوئی شخص حج سے پہلے بھی حج کی سعی کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ اور مکہ یا حل (جیسے جدہ) میں رہنے والے لوگوں پر چونکہ طواف قدوم نہیں لہذا ایسے حضرات اگر حج سے پہلے سعی کرنا چاہتے ہوں تو اُنہیں چاہئے کہ حج کا احرام باندھ کر کسی نفلی طواف کے بعد حج کی سعی کریں اور اُس طواف میں رمل واضطباع بھی کریں سعی کرنا، حج کے واجبات میں سے ہے، چنانچہ المسلک المتقسط فی المنسك المتوسط میں ہے : ” السعی من واجبات الحج “ترجمہ : سعی، حج کے واجبات میں سے ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.