Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

منی میں قیام کئے بغیر عرفات جانا کیسا؟

Fatwa no.
1772-WAT

Question

(دعوت اسلامی) ہم جب ریاض سے حج کے لیے جاتے ہیں تو ہم 8 تاریخ کی رات کو حرم پہنچتے ہیں۔ ہمیں عمرہ کرتے اور سعی کرتے صبح ہو جاتی ہے۔ اب کیا ہم احرام کھول کر حلق کروا کر دو بار وحج کا احرام باندھ کر منی کے لیے چلے جائیں۔ کیا یوں ہم حج تمتع کر سکتے ہیں؟ کیا یونہی ہم 9 کو عمرہ کر کے سید ھا عرفات جا سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

جب آٹھ تاریخ کی رات حرم پہنچا جائے تو عمرہ وسعی کرنے کے بعد صبح ہوتی ہے اور وہ صبح آٹھ تاریخ کا دن ہے۔ اب حکم یہ ہے کہ آپ حج کا احرام باندھ کر منی چلے جائیں، کیونکہ آٹھ تاریخ کے دن میں منی کے لیے جانا سنت ہے۔ وہاں آٹھویں کا دن اور نویں کی رات گزارنے کے بعد آپ عرفات جائیں گے۔ اس بیان کردہ طریقہ کے مطابق حج تمتع درست ہو گا۔ آپ نے سوال میں جو دوسری صورت بیان کی کہ نو تاریخ کو عمرہ کر کے سیدھا عرفات ہی جائیں تو اس صورت میں اگر چہ حج درست ہو جائے گا مگر ”سنتِ مؤکدہ کا ترک لازم آئے گا، کیونکہ نوذوالحجہ کی رات منی میں گزار ناسنتِ مؤکدہ ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.