Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حج کے ارکان میں رمی قربانی اور حلق میں ترتیب کا حکم؟
- Fatwa no.
- 1767-WAT
Question
حج کرنے والے پر جو ترتیب واجب ھے مثلاً 1 رمی 2 قربانی 3 حلق اگر وہ کسی وجہ سے قربانی پہلے کر دیتا ھے اور پھر رمی تو اس کا کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
حاجی تین قسم کے ہیں ان میں سے حج افراد کرنے والے پر قربانی واجب نہیں جبکہ حج قران اور حج تمتع کرنے والے پر قربانی واجب ہے۔ لہذا قارن اور متمتع حاجی سب سے پہلے 10 ذو الحجہ کو یعنی پہلے دن کی رمی اپنے وقت میں کرے گا پھر قربانی کرے گا اور اس کے بعد حلق یا تقصیر کرے گا۔ ان تینوں امور میں ترتیب واجب ہے۔ البتہ حج افراد والے پر یا قربانی واجب نہیں اس پر دو چیزوں میں ہی ترتیب واجب ہے کہ پہلے رمی کرے گا پھر حلق یا تقصیر ۔ قرآن یا تمتع والے نے پہلے دن کی رمی، قربانی اور حلق و تقصیر میں ترتیب نہ رکھی یو نہی حج افراد والے نے رمی اور حلق و تقصیر میں ترتیب نہ رکھی تو دم واجب ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.