Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
وضو کے بعد پانی پوچھنا چاہیے یا نہیں ؟
- Fatwa no.
- 1764-WAT
Question
وضو کر کے پانی بدن پہ رہنے دینا ہے ( یعنی وضو کا پانی پونچھ سکتے ہیں) یا بدن پر ہی خشک کرنا ہے، کوئی حدیث شریف اس بارے میں ہو کہ سنت کیا ہے ؟
Answer (beginning)
اعضائے وضو بلا ضرورت نہ پونچھے اگر پونچھنا ہو تب بھی بلا ضرورت بالکل خشک نہ کیجئے کچھ تری باقی رکھئے کہ بروز قیامت نیکیوں کے پلڑے میں رکھی جائے گی ، مزید اس حوالے سے فتاوی رضویہ میں ہے : ہاں بہتر ہے کہ بے ضرورت نہ پونچھے، امراء و متکبرین کی طرح اُس کی عادت نہ ڈالے اور پونچھے تو بے ضرورت بالکل خشک نہ کرلے قدرے نم باقی رہنے دے کہ حدیث میں آیا ہے : ” ان الوضوء يوزن "رواه الترمذي عن ابن شهاب الزهري من اواسط التابعين وعلقه عن سعيد بن المسيب من اكابرهم وافضلهم “ (ترجمہ: بے شک وضو کا پانی روز قیامت نیکیوں کے بلے میں رکھا جائے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.