Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا خرید لینے کے بعد قربانی کا جانور بدلنا جائز ہے؟

Fatwa no.
1755-WAT

Question

(دعوت اسلامی) مفتی صاحب کی بارگاہ میں عرض ہے کہ کیا ایک دفعہ قربانی کا جانور خرید لینے کے بعد اس کو (اس سے بہتر جانور خریدنے کی نیت سے ) واپس کر سکتے ہیں پانچ سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں صرف غنی شخص کے لیے اس سے بہتر جانور خریدنے کی نیت سے قربانی کے لیے خریدا ہوا جانور واپس کرنا یا بیچنا جائز ہے۔ اور فقیر شخص قربانی کی نیت سے جانور خریدنے کے بعد اسے اچھے جانور سے بھی تبدیل یا بچ نہیں سکتا، کیونکہ قربانی کا جانور خریدنے کی وجہ سے اس پر اُسی جانور کی قربانی واجب ہو چکی ہے۔ چنانچہ جدالممتار میں ہے: ”و قال في الهداية والتبيين: (انها تعينت للاضحية حتى وجب ان يضحى بها بعينها في ايام النحر، ويكره ان يبدل بها غيرها ) قال في العناية : (بعينها في ايام النحر فيما اذا كان المُضحَى فقيراً ويكره ان يبدل اذا كان غنيا ) ومطلق الكراهة التحريم (ولكن يجوز استبدالها بخير منها…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.