Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا فوت شدہ کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہے؟

Fatwa no.
1753-WAT

Question

میں نے ٹی وی پر سنا کہ کسی سے سوال ہوا: دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) " فوت شدہ بندے کی طرف سے قربانی کرنے کے کیا احکام ہیں۔؟" تو اس نے جواب دیا: " حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فوت شدگان کی طرف سے قربانی نہیں کی،اگر حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم فوت شدگان کی طرف سے قربانی کرتے ، تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے کرتے۔ " لہذا اس بارے میں رہنمائی فرما دیں کہ : کیا ہم فوت شدہ کے لیے قربانی کرنے کے بجائے، صدقہ کر سکتے ہیں یا یہ بتا دیں کہ فوت شدگان کی طرف سے ایام قربانی میں صدقہ دینا افضل ہے یا قربانی کرنا۔ ؟

Answer (beginning)

فوت شدگان کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہے اور یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قول اور فعل دونوں سے ثابت ہے ۔ جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : "رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قربانی کا ارادہ فرماتے ، تو دو بڑے، موٹے تازے، سینگوں والے، چت کبرے، خصی کئے ہوئے مینڈھے خریدتے اور ان میں سے ایک اپنی امت کے ان لوگوں کی جانب سے قربان کرتے ، جو توحید و رسالت کی گواہی دینے والے ہیں اور دوسرا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے قربان کرتے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.