Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

فجر کا وقت ختم ہونے کے بعد سلام پھیرنے کا حکم

Fatwa no.
1751-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں نے فجر کی نماز وقت کے اندر شروع کی، لیکن اس کا سلام، وقت فجر ختم ہونے کے چند سیکنڈ بعد پھیرا، تو کیا اس صورت میں میری نماز ہو گئی ؟

Answer (beginning)

نماز فجر کا وقت صبح صادق سے طلوع آفتاب تک ہے اور نماز فجر میں یہ ضروری ہے کہ وقت کے اندر یعنی طلوع آفتاب ہونے سے پہلے پہلے نماز فجر کا سلام پھیر لیا جائے، اگر سلام سے پہلے وقت نکل گیا یعنی آفتاب طلوع ہو گیا تو نماز فجر باطل ہو جائے گی اور اُس کی قضالا زم ہو گی۔ نماز فجر پڑھتے ہوئے اگر سورج طلوع ہو جائے تو نماز فاسد ہو جائے گی، جیسا کہ مبسوط سرخسی میں ہے: ”ولو طلعت الشمس وهو في خلال الفجر فسدت صلاته عندنا ترجمہ :اگر نماز فجر کے دوران سورج طلوع ہو جائے تو ہمارے نزدیک اس کی نماز فاسد ہو جائے گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.