Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نیک لوگوں کی اللہ تعالی کو ضرورت پڑتی ہے کہنا؟
- Fatwa no.
- 1750-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کسی نیک آدمی کے مرنے پر یہ کہا کہ : ابڑا نیک آدمی تھا اور اللہ پاک کو نیکوں کی ضرورت تھی، لہذا اسے اپنے پاس بلا لیا۔ " اس کا کیا حکم ہو گا ؟
Answer (beginning)
سوال میں بیان کردہ جملہ کفریہ ہے، اس وجہ سے کہ اس میں اللہ عزوجل کو ضرورت مند یا محتاج کہا گیا ہے اور اللہ تعالی کو ضرورت مند یا محتاج کہنا کفر ہے، لہذا جس نے ایسا بولا، اس پر تو بہ و تجدید ایمان لازم ہو گا۔ کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب " نامی کتاب میں ہے "سوال: ایک نیک نمازی آدمی فوت ہو گیا، اس پر پڑوسی نے کہا: "نیک لوگوں کو اللہ عَزَّ وَ جَلَّ جلدی اٹھالیتا ہے کیوں کہ ایسوں کی اللہ عَزَّ وَ جَل کو بھی ضرورت پڑتی ہے۔ " پڑوسی کا یہ قول کیسا ہے؟ جواب : پڑوسی کا قول کفریہ ہے۔ اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کسی کا بھی محتاج نہیں، وہ بے نیاز ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.