Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا خنثی جانور کی قربانی جائز ہے؟
- Fatwa no.
- 1748-WAT
Question
خنثی جانور حلال ہے یا نہیں؟ (دعوت اسلامی)
Answer (beginning)
حلال جانور مثلا بکرا، بکری، گائے وغیرہ میں سے جو خنثی ہوں، یعنی نرومادہ دونوں کی علامت رکھتے ہوں، دونوں سے یکساں پیشاب آتا ہو، کوئی وجہ ترجیح نہ رکھتا ہو ، یہ حلال ہیں، ذبیح شرعی کے بعد ان کا گوشت کھانا جائز ہے، البتہ خفی جانور کی قربانی نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ سیدی اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں : " خفی کہ تر ومادہ دونوں کی علامتیں رکھتا ہو ، دونوں سے یکساں پیشاب آتا ہو ، کوئی وجہ ترجیح نہ رکھتا ہو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں کہ اس کا گوشت کسی طرح پکائے نہیں پکتا، ویسے ذبح سے حلال ہو جائے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.