Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بوفے سسٹم کا شرعی حکم کیا ہے ؟
- Fatwa no.
- 1746-WAT
Question
اگر بائع ( بیچنے والا ) کھانے کے حوالے سے یہ آفر رکھے کہ مثلا تین سو روپے دیں اور جتنا چاہیں کھانا کھا لیں، کیا اس طریقے سے بیچ (خرید و فروخت) درست ہو گی، جبکہ مبیع کی مقدار معلوم نہیں ہے ؟
Answer (beginning)
سوال میں ذکر کی گئی صورت کو ہمارے ہاں بوفے سسٹم کہا جاتا ہے، عموماً ہونے سسٹم میں ایسا ہوتا ہے کہ ایک مخصوص رقم لے لی جاتی ہے اور اس کے بدلے جتنا کھانا کھانا چاہیں، کھا سکتے ہیں، شرعی طور پر اس انداز سے کھانے کی بھی جائز ہو گی، اگرچہ اس میں کھانے کی مقدار وغیرہ معلوم نہیں ہوتی ، لیکن چونکہ بوجہ عرف یہ جہالت نزاع جھگڑے) کی طرف لے کر جانے والی نہیں ہوتی، لہذا اس جہالت کی وجہ سے بیچ کے اندر کوئی شرعی خرابی عائدہ نہیں ہو وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَل وَ رَسُولُه أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Darulifta Ahlesunnat Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) دام الا…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.