Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ثنایا نام کا مطلب اور ثنایا نام رکھنا کیسا ہے؟

Fatwa no.
1745-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) بچی کا نام ثنا یار کھنا کیسا، اور اس کا کیا مطلب ہے ؟

Answer (beginning)

ثنایا عربی زبان کا لفظ ہے ، یہ منتیہ کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں: (1) سامنے کے اوپر کے نیچے کے دور و دانت۔ (2) تھائی کا راستہ المنجد میں ہے ”الثنیة: سامنے کے اوپر کے نیچے کے دو دو دانت، ج: شنایا (2) گھائی کا راستہ (المسجد، ص 96 ، خزینہ علم وادب، لاہور) پس اس نام کے رکھنے میں شرعا کوئی حرج نہیں، البتہ ! بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات، صحابیات رضی اللہ عنہن اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائے، کہ اس کی وجہ سے نام کی برکت اور ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی شامل حال ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.