Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
امام کے سجدہ سہوسے پہلے مسبوق کھڑا ہوگیا تو کیا کرے؟
- Fatwa no.
- 1744-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر مسبوق امام کے سجدہ سہو سے پہلے ، آخری سلام سمجھ کر اپنی چھوٹی ہوئی نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہو گیا پھر پتا چلا کہ العام نے تو نماز ختم کرنے کے لیے سلام نہیں پھیرا، بلکہ سجدہ سہو کرنے کے لیے سلام پھیرا ہے، تو اب مقتدی اپنی چھوٹی ہوئی نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہو گیا۔ اس کے بارے میں کیا حکم ہو گا۔ وہ کیا کرے۔ براہ کرم جواب ارشاد فرمائیے۔
Answer (beginning)
صورت مسئولہ میں مسبوق کو حکم یہ ہے کہ فور اواپس آئے سجدہ سہو میں شریک ہو اور اگر واپس نہیں لوٹا، بلکہ نماز جاری رکھی اور بقیہ رکعت کا سجدہ بھی کر لیا تو آخر میں دو سجدے بطورِ سہو کرے۔ بہار شریعت میں ہے: اپنی فوت شد و پڑھنے کے لیے کھڑا ہو گیا اور امام کو سجدۂ سہو کرنا ہے، اگر چہ اس کی اقتدا کے پہلے ترک واجب ہوا ہو تو اسے حکم ہے کہ لوٹ آئے، اگر اپنی رکعت کا سجدہ نہ کر چکا ہو اور نہ لوٹا تو آخر میں یہ دو سجدۂ سہو کرے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.