Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حج والی رقم حج کے علاوہ کسی اور کام میں صرف کرنا کیسا؟

Fatwa no.
1739-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) حج فرض ہونے کا زمانہ آگیا، حاجی حج کو جارہے ہیں اور حج کے اخراجات کے مطابق حاجت سے زائد پیسے پاس موجود ہیں تو حج فرض ہو گیا لیکن اس وقت اگر بھائی قرض مانگے تو کیا اسے قرض دیں یا حج پر جائیں۔ اور صورت حال یہ ہے کہ اگر قرض نہ دیا تو بھائی اور والد دونوں ناراض ہو جائیں گے اور ساری باتیں سننی پڑیں گی۔

Answer (beginning)

حج فرض ہو جانے کی صورت میں حج اخراجات والی رقم حج کے علاوہ کسی اور کام مثلا بھائی کو قرض دینے وغیرہ میں صرف کرنا، جائز نہیں بلکہ ضروری ہے کہ رقم کے ذریعے حج پر جائے اور چاہئے کہ اپنے بھائی اور والد کو سمجھا کر حکم شرعی تسلیم کرنے پر رضامند کرلے،اگروہ نہ مانیں تو ان کو نظر انداز کر کے حج پہ چلا جائے کہ خالق کی نافرمانی میں مخلوق کا لحاظ نہیں کیا جاتا۔ بہار شریعت میں ہے : ”روپیہ ہے جس سے حج کر سکتا ہے مگر مکان وغیرہ خریدنے کا ارادہ ہے اور خریدنے کے بعد حج کے لائق نہ بچے گا تو فرض ہے کہ حج کرے اور باتوں میں اُٹھانا گناہ ہے یعنی اس وقت کہ اُس شہر والے حج کو جار ہے ہوں اور اگر پہلے مکان وغیرہ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.