Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حج قران کرنے والا حج و عمرہ کے درمیان نفلی طواف کر سکتا ہے؟

Fatwa no.
1734-WAT

Question

قارن، حج و عمرہ کے درمیان نفلی طواف کر سکتا ہے؟

Answer (beginning)

قارن، حج سے پہلے جتنے چاہے نفلی طواف کر سکتا ہے۔ بلکہ باہر والوں کے لیے اسے سب سے بہتر عبادت قرار دیا گیا ہے اور یہ یادر ہے کہ اس نقلی طواف میں نہ اضطباع ہو گا، نہ رمل اور نہ اس کے بعد سعی۔ ہاں ہر سات پھیروں پر طواف کا دوگانہ ادا کر ناضروری ہوگا۔ فتاوی رضویہ میں ہے " اب یہ سب تجاج، قارن، متمتع، مفرد، کوئی ہو، کہ مٹی جانے کے لیے مکہ معظمہ میں آٹھویں تاریخ کا انتظار کر رہے ہیں، ایام اقامت میں جس قدر ہو سکے نرا طواف بے اضطباع ورمل و سعی کرتے رہیں، باہر والوں کے لیے یہ سب سے بہتر عبادت ہے اور ہر سات پھیروں پر مقام ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام میں دور کعت پڑھیں " (فتاوی رضویہ، ج…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.