Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حالت حیض میں بغیر احرام کے میقات سے گزرنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 1731-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی عورت ماہواری کی حالت میں ہونے کی وجہ سے بغیر احرام میقات سے گزر جائے تو کیا اس پر دم لازم ہو گا؟ اور پاک ہونے کے بعد واپس میقات جا کر احرام کی نیت کر کے آجائے اور عمرہ ادا کرے تو کیا عمرہ ادا ہو جائے گا؟
Answer (beginning)
ماہواری کی حالت میں بھی احرام کی نیت کی جاسکتی ہے ، لہذا حائضہ عورت پر بھی میقات سے گزرتے ہوئے، احرام کی نیت کے ساتھ مکہ میں داخل ہو نالازم ہے ، البتہ طواف کیلئے پاک ہونے کا انتظار کرے گی، جب پاک ہو کر غسل کرلے تواب طواف کر سکتی ہے۔ اور اگر کوئی عورت ماہواری کی وجہ سے بغیر احرام کے میقات سے گزر جائے تو اس پر بھی دم لازم ہو گا، ہاں جب واپس میقات جاکر عمرہ یا حج کے احرام کی نیت اور تلبیہ کہہ لے گی تو اس پر لازم ہونے والا دم ساقط ہو جائے گا، اور عمرہ یا حج جو بھی ادا کرے گی وہ ادا ہو جائے گا، البتہ جان بوجھ کر میقات سے بغیر احرام گزرنے کی وجہ سے گناہگار ہو گی، جس سے تو بہ کرناضروری ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.