Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

غیر مسلموں کی عبادت گاہوں میں جانا کیسا؟

Fatwa no.
1730-WAT

Question

(دعوت اسلامی) کفار کی عبادت گاہوں میں وزٹ کے لیے جانا کیسا ہے، عام عوام کا جانا یا ٹورسٹ کا جانا یا اپنے دوستوں کے ساتھ چلے جانا، ان کے ساتھ کھانا کھانا، ان کی دعوتوں میں شرکت کرنا کیسا ہے ؟

Answer (beginning)

کفار کی عبادت گاہوں میں جانے کی ہر گز اجازت نہیں، اسی طرح ان کی محفلوں میں شرکت کرنا، دعوتوں میں جانا، ان سے دوستی رکھنا، گناہ اور اللہ عزو جل ورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات کی سخت پامالی ہے ، قرآن و حدیث میں اس کی سخت ممانعت آئی ہے۔ بد مذہبوں سے میل جول اور ان کی صحبت میں بیٹھنے کی ممانعت کے متعلق اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : وَامَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَنُ فَلَا تَقْعُدُ بَعْدَ الذِكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ ترجمہ کنز العرفان: "اور اگر شیطان تمہیں بھلادے تو یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس نہ بیٹھ ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.