Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

صبیہ نام کا مطلب اور محمد صبیہ نام رکھنا کیسا ہے؟

Fatwa no.
1729-WAT

Question

بچی کا " صبیہ " نام رکھنا کیسا ہے ؟

Answer (beginning)

صبیہ ( یاء کی تشدید کے ساتھ ) کا معنی ہے: " بچی ، لڑکی "۔ پس بچی کا یہ نام رکھنا جائز ہے۔ البتہ ! بہتر یہ ہے کہ اپنی بچیوں کے نام امہات المؤمنین ، صحابیات رضی اللہ عنہن اور صالحات امت کے ناموں میں سے کسی کے نام پر رکھے جائیں تاکہ ان کی برکت اس بچی کو ملے۔ نیز حدیث پاک میں بھی نیکیوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ار شافر مائی گئی ہے سنن ابو داؤد کی حدیث پاک ہے ” عن أبي الدرداء رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم وأسماء آبائكم فحسنوا أسماءکم“ ترجمہ : روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں فرما یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم قیامت کے دن…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.